NauhaDiary

Allaho Akbar

Shabhi Gopalpuri

Written by Maulana Hasan Raza Sahab

smart_displayVideo

بسم رب الشھداء

لوٹا گیا زہرا کا بھراگھر اللہ اکبر

اجڑا ہوا ہے باغ پیمبر اللہ اکبر

چاند حسن کا چھپ گیا جاکر کرب و بلا کے بادل میں

بیوہ ماں کی ساری کمائی لٹ گئی ہائے جنگل میں

لاشہ قاسم خیمہ میں کیسے شاہ والا لے جائیں

ابن حسن کی لاش کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں مقتل میں

آس لگائے خیمہ کے در پر اللہ اکبر

دیکھ رہی ہے رستہ مادر اللہ اکبر

شانے کٹا کر نہر کنارے ثانی حیدر سوتا ہے

بیبیاں نوحہ پڑھتی ہیں اور بچوں میں ماتم ہوتا ہے

پیاسوں نے خالی کوزے زمیں پر پھینک دییے ہیں روتے ہوئے

بھائی کے غم میں خون کے آنسو ایک برادر روتا ہے

ہاتھ رکھے ہے اپنا کمر پر اللہ اکبر

اور یہ جملہ بھی ہے زباں پر اللہ اکبر

لاش جواں پر بوڑھے پدر کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں

ہائے ضعیفی کے عالم میں داغ پسر کا سہتے ہیں

سبط پیمبر کی غربت پر لشکر اعدا ہنستا ہے

جانب دریا دیکھ کے سرور روتے ہوئے یہ کہتے ہیں

کوئی نہیں ہے ناصر و یاور اللہ اکبر

کیسے اٹھاوں لاشہ اکبر اللہ اکبر

تیر جفا سے چھیدا گیا جب ننھے علی اصغر کا گلا

پہلے رگیں گردن کی کٹیں پھر بازوئے شہ میں تیر لگا

مثل شتر وہ نحر ہوا ہے اپنے پدر کے ہاتھوں پر

گردن اصغر چھوٹی تھی اور تیر تھا تیر سہ شعبہ

سرکو جھکائے روتے ہیں سرور اللہ اکبر

ماں سے کہونگا میں کیا جاکر اللہ روکر

لشکر اعداء میں تنہا ہے فاطمہ زہرا کا دلبر

تیر سے کوئی مارتا ہے اور کوئی چلاتا ہے پتھر

خون سے تر ہے پیشانی اور شاہ کا سینہ چھلنی ہے

پشت فرس سے جلتی زمیں پر آتا ہے سبط پیغمبر

بڑھتا ہے قاتل لیکر خنجر اللہ اکبر

کہتی ہے روکر بنت پیمبر اللہ اکبر

خیمہ شاہ میں فوج ستمگر آگ لگانے آئی ہے

دیکھ کے یہ پردرد نظارہ بنت علی گھبرائی ہے

کس کو بلائے بحر مدد اب قاسم و اکبر کوئی نہیں

شام غریباں کا ہے اندھیرا اور شب تنہائی ہے

غش میں پڑے ہیں عابد مضطر

اللہ اکبر

جلنے لگا ہے ان کا بستر اللہ اکبر

شہ کی یتمہ اپنے پدر کو ڈھونڈنے آئی جب رن میں

رخ پہ طمانچوں کے تھے نشاں اور آگ لگی تھی دامن میں

لاشہ بے سر جب یہ پکارا آؤ سکینہ آؤ ادھر

ٹھوکریں کھاتی لاش پہ پہونچی ننھی سی اک دکھیا بن میں

بولی رضا یہ بچی روکر اللہ اکبر

کب آؤگے بابا اب گھر اللہ اکبر

Related Nauhas

View All